کارپوریٹ بصیرت

ہیسکول پیٹرولیم لمیٹڈ پٹرولیم مصنوعاتجیسا کہ ہائی سپیڈ ڈیزل، پٹرول ، ایندھن کے تیل اور ایف یو سی ایچ ایس لبریکینٹ کی خریداری، سٹوریج اور فروخت میں مصروف ہے۔

فروری 2005 میں ہیسکول گورنمنٹ آف پاکستان کی طرف سے تیل کی مارکیٹینگ کا لائسنس ملا جس کے بعد سے، ہیسکول ایک ریٹیل نیٹ ورک کو تیارکرنے میں مصروف ہے اور پاکستان کے چاروں صوبوں میں اور جموں اور کشمیر میں بھی ہیسکول کے 500 سے زائد ریٹیل آؤٹ لیٹکھل چکے ہیں۔ہیسکول پیٹرولیم لمیٹڈ کے ملکی اور بین القوامی تیل تجارتی کمپنیوں سے بھی وسیع تعلقات ہیں اور PSO کے بعد ہیسکول پیٹرولیم مصنوعات کا دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔

ہیسکول ایل پی جی کو بھی مارکیٹ کرتا ہے ۔موجودہ وقت میں پورے پاکستان میں 15 Automax ایل پی جی LPG اسٹیشن پاکستان حکومت کی منظوری کے مختلف مراحل میں ہے۔ہیسکول پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی بڑی اور قدر والی کمپنیوں کا ایک اہم رکن ہے اور اسکے شئیر کی قیمتیں 2014 لسٹنگ کے بعد سے کافی سراہا گیا ہے اور کمپنی کی رفتار تیزی سے بڑھ رہی ہی۔یہ بڑے پیمانے پر ترقی سینیئر مینییجمنٹ کی بہترین عملدرآمد اور بورڈ کے اسٹریٹیجک نقطہ نظرکی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ہیسکول کیماڑی، دولت پور، شکار پور، محمود کوٹ ، مچیک اور امن گڑھ میں سٹوریج کی تعمیر میں اہم پیش رفت ہے۔تھلیان، کوٹلہ جام اور ساہیوال کے لئے نئی سٹوریج کی سہولیات کے لئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

2016 میں وائٹول Vitol، جو کہ دنیا کا سب سے بڑا تیل کا آزاد تجارتی ادارہ ہے، نے 15% ہیسکول میں حصص لیا جس کو بعد میں بڑھا کر 27.46% کیا، جس سے وائٹول Vitol دنیا کی واحد، اور سب سے بڑی شئیر ہولڈر کمپنی بن گئ ہے۔
وائٹول Vitol کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبہ میں ہیسکول نے ایک LNG مارکیٹنگ کمپنی، VAS LNG (PVT) LTD قائم کی ہے۔ ہیسکول کو اس کمپنی میں 30% حصص حاصل ہے اور وائٹول Vitol کو 70%۔ ہیسکول نے وائٹل ایوی ایشن Vitol aviation کے ساتھ بھی ایک تکنیکی سروس کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ جس میں ہیسکول کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے ہوائی اڈوں پرجہازوں کو ایندھن فراہم کرے گا۔
اس کے علاوہ، ایک نئی مشترکہ منصوبہ کمپنی وائٹول Vitol کے ساتھ، ہیسکول ٹرمینل لمیٹد [Hascol Terminal Limited [HTL پورٹ قاسم پر تعمیر کی گئی ہے جو کہ پیٹرولیم ٹرمینل کی سب سے بڑی کمپنی ہے، اور اسکی گنجائش 197,000 میٹرک ٹن سٹوریج ہے۔ اس ٹرمینل کے پہلے مرحلے کی ابتداء مارچ ۲۰۱۹ میں ہوئ۔
لبریکینٹز کی پیداوار کے لیے ایک لبریکینٹ پلانٹ کو پورٹ قاسم پر تعمیر کیا گیا ہے جو کہ لبریکینٹز کی پیداوار ۲۰۱۹ سے شروع کرے گا ۔